17 اکتوبر 2026 - 17:57
یمن کے خلاف شکست چھپانے کے لیے سعودی عرب حرمین شریفین کے مقام کو استعمال کر رہا ہے، محمد طاہر انعم

یمن کی سپریم سیاسی کونسل کے مشیر ڈاکٹر محمد طاہر انعم نے کہا ہے کہ سعودی حکمران یمن کے مقابلے میں اپنی شکستوں پر پردہ ڈالنے اور مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کے لیے حرمین شریفین کے مذہبی مقام کو سیاسی اور ابلاغی مہمات میں استعمال کر رہے ہیں۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ڈاکٹر محمد طاہر انعم نے ایک گفتگو میں وضاحت کی کہ سعودی عرب کی حالیہ مہم اس بات کی ایک اور مثال ہے کہ حرمین شریفین کے مذہبی مقام کو ایسے معاملات میں سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے جو نہ اسلام کی خدمت کرتے ہیں اور نہ ہی مسلمانوں کے مفادات کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محمد بن سلمان کی قیادت میں سعودی حکمران اس مذہبی مقام کو یمن کے اس مؤقف کے خلاف استعمال کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جس کے تحت یمن نے جارحیت اور محاصرے کو جاری رکھنے کی مخالفت کی ہے۔

انعم نے کہا کہ یمن کے مقابلے میں سعودی حکمرانوں کی شکستوں نے ریاض کو اپنا مؤقف مضبوط کرنے کے لیے مختلف راستے تلاش کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ سعودی عرب امریکہ اور صیہونی حکومت سے مدد طلب کر رہا ہے اور فوجی و انٹیلی جنس تعاون حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس کے علاوہ وہ بحری اور فوجی اتحاد بنانے کی بھی کوشش کر رہا ہے، لیکن ان سرگرمیوں سے سعودی حکمرانوں کے مطلوبہ مقاصد حاصل نہیں ہو سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ریاض اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنے، جارحیت روکنے اور محاصرہ ختم کرنے کے بجائے یمن کے خلاف اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے بدستور مختلف ذرائع تلاش کر رہا ہے۔

انعم نے زور دیا کہ ذرائع ابلاغ کے ذریعے مہمات چلانے یا مذہبی جذبات بھڑکانے کے ذریعے یمن پر دباؤ ڈال کر اسے اپنے مؤقف سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کرنے کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی۔

حرمین شریفین کو نشانہ بنائے جانے سے متعلق سعودی دعوؤں کے بارے میں انہوں نے سعودی حکمرانوں پر الزام لگایا کہ وہ ان دعوؤں کو مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے اور تنازع کی حقیقت اور یمن کے خلاف جارحیت کے نتائج سے عوام کی توجہ ہٹانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اسلامی مقدسات کو سیاسی اور ابلاغی تنازعات میں گھسیٹنا، اسلامی اقوام کے نزدیک ان کے مقام سے غیر ذمہ دارانہ فائدہ اٹھانے کے مترادف ہے۔

انعم نے خبردار کیا کہ ان دعوؤں کے ذریعے مسلمانوں کے جذبات بھڑکانے کی کوشش سعودی حکمرانوں کی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتی ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے حرمین شریفین کے مقام سے فائدہ اٹھانے سے جارحیت اور محاصرے سے متعلق حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا۔ اسی طرح مذہبی اور ابلاغی بیانیے کے ذریعے اسلامی اقوام پر اثرانداز ہونے کی کوششیں میدان میں موجود حقائق کو تبدیل نہیں کر سکتیں۔

انہوں نے دوسرے ممالک کے بعض ذرائع ابلاغ کی کارکردگی پر بھی تنقید کی اور ان پر سیاسی یا مالی مفادات کے تحت سعودی بیانیے کی حمایت کرنے اور حقائق کو پیشہ ورانہ انداز اور غیر جانب داری سے پیش کرنے کے بجائے عرب اور مسلم اقوام کے جذبات بھڑکانے کا الزام لگایا۔

انعم نے کہا کہ تشہیری مہمات خواہ کتنی ہی وسیع کیوں نہ ہوں، وہ حقائق کو ہمیشہ کے لیے تبدیل نہیں کر سکتیں۔

انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ حق باقی رہتا ہے اور باطل مٹ جاتا ہے۔ ان کے مطابق، اس بحران کا حل یمن کے خلاف جارحیت روکنے اور محاصرہ ختم کرنے میں ہے، نہ کہ سیاسی اور ابلاغی تنازعات میں مذہبی مقدسات کو استعمال کرنے میں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha